چیئر مین سینیٹ کے انتخاب کے لیے پسِ پردہ سرگرمیاں تیز

اپوزیشن کو چھ ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ نمبر گیم مضبوط بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے ناراض ارکان سے دوبارہ رابطوں کی کوشش۔ صادق سنجرانی کو اُمیدوار نامزد کرنے پر حکمران جماعت کے اندر بے چینی۔ اپنے ایم این ایز کی نگرانی بڑھادی۔ یوسف رضا گیلانی کو میدان میں اُتارنے کا حتمی فیصلہ پی ڈی ایم اجلاس میں متوقع ہے۔ ذرائع
اسلام آباد میں سینیٹ کی اہم جنرل سیٹ پر حکومت اور اپوزیشن کے اُمیدواروں کے درمیان ہائی وولیٹیج سینیٹ الیکشن کے بعد اب چیئر مین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے اہم ترین عہدوں کے انتخابات کے لیے پیش منظر اور پس منظر، دونوں طرح کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ چار روز بعد ہونے والے اس الیکشن کے لیے حکومتی اتحاد نے موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو دوبارہ اپنا مشترکہ اُمیدوار نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کے مشترکہ اُمیدوار کے طور پر اگرچہ یوسف رضا گیلانی کا نام لیا جارہا ہے۔ تاہم اپوزیشن نے اب تک باقاعدہ اس کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اس حوالے سے آج ـ(پیرکو) پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں مشاورت کی جائے گی۔
لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں موجود مختلف ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے حاصل کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے پسِ پردہ سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کی طرف سے ان سرگرمیوں میں بنیادی کردار آصف علی زرداری ادا کررہے ہیں۔ عبد الحفیظ شیخ کو شکست دینے کے بعد جن کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ الیکشن کی طرح بارہ مارچ کو شیڈول چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن بھی خفیہ ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ ذرائع کے بقول اسلام آباد میں سینیٹ کی جنرل سیٹ پر الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی کے جن بیس سے زائد ارکان کو توڑا گیا تھا۔ دوبارہ اُن سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے سولہ ارکان نے یوسف رضا گیلانی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ جس کے باعث حکومتی اُمیدوار عبد الحفیظ شیخ کو شکست کھانا پڑی تھی۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار معاملہ آسان نہیں۔ کیونکہ حکومت نے اپنے وسائل کے ذریعے ان ارکان کا سراغ لگالیا ہے۔ تاہم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے اُنہیں کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اور یہ یقین دہانی بھی لی گئی تھی کہ وہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر دوبارہ غداری نہیں کریں گے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے اپنی ماتحت سول ایجنسیوں کے ذریعے ان تمام ارکان کے رابطوں اور نقل و حرکت پر بھی گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ لہٰذا آصف زرداری کے لیے دوبارہ اُن ارکان کو ساتھ ملانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ اس مشکل کے پیشِ نظر متذکرہ پی ٹی آئی ایم این ایز کی جگہ دوسرے ناراض ارکان کو بھی چارہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی طرح حکومت کی بیک ڈور سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ جس کے تحت کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح اے این پی کو حمایت کے لیے راضی کرلیا جائے۔ تاکہ اپوزیشن کے ساتھ سینیٹ سیٹوں کے فرق کو کم کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ سینیٹ الیکشن میں واحد اکثریتی پارٹی بن جانے کے باوجود حکمراں جماعت تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی نشستیں سینتالیس، جبکہ اپوزیشن اتحاد کی سیٹیں تریپن ہیں۔ یوں حزبِ اختلاف کو چھ سیٹوں کی برتری حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ اے این پی کو ساتھ ملا لیا جائے۔ جس کی سینیٹ میں دو سیٹیں ہیں۔ جبکہ نمبر گیم میں برتری کے لیے چھ سے ساتھ سیٹیں دیگر طریقوں سے حاصل کرلی جائیں۔ اے این پی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پرویز خٹک کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد نے امیر حیدر ہوتی اور دیگر رہنمائوں سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپنے ارکان کو غداری سے روکنے اور دوسری پارٹیوں کے ارکان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے حکومت نے مددگاروں سے درخواست کردی ہے۔ لہٰذا دیکھنا ہوگا کہ آصف علی زرداری اس دبائو کو برداشت کر پاتے ہیں یا نہیں۔ اگر اُنہوں نے دبائو برداشت کرلیا تو عبدالحفیظ اور یوسف رضا گیلانی کے مقابلے کی کہانی دوبارہ دوہرائی جاسکتی ہے۔ بصورت ِ دیگر حکومت اپنا چیئرمین سینیٹ لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پی ٹی آئی کے ایک ذمے دار کے بقول نمبر گیم پورے نہ ہونے کے ساتھ حکومت کو ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ عبد الحفیظ شیخ کی طرح پارٹی کے اندر صادق سنجرانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ کا اُمیدوار بنانے پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔ متعدد ایم این ایز کا موقف یہے کہ صادق سنجرانی کے بجائے اس بار پارٹی کے کسی دیرینہ اور نظریاتی رکن کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا جانا چاہیے تھا۔ حکومت کو چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں اس ڈس ایڈوانٹیج کے اثرات کا خڈشہ ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم کی مجبوری ہے کہ اس صورت میں سینیٹ میں دوسری بڑی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی ناراض ہوجائے گی اور یوں پی ٹی آئی کے نمبر گیم مزید کم ہونے سے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ لہٰذا صادق سنجرانی کو ہی اُمیدوار برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں ایم کیو ایم کے وفد سے سینیٹ کے آئندہ چیئرمین انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے ملاقات کی ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کوشش بے سود رہے گی۔ کیونکہ ایم کیو ایم اشارے کے بغیر ہلنے سے بھی قاصر ہے۔ ذرائع کے مطابق مخالف سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اگرچہ یوسف رضا گیلانی بھاگ دوڑ کررہے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ آج پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ہی کیا جائے گا کہ اپوزیشن کے مشترکہ اُمیدوار یوسف رضا گیلانی ہوں گے یا کسی اور سینیٹر کو اس کے لیے نامزد کیا جائے گا۔ کیونکہ اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ علی حیدر گیلانی کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو کیس میں کہیں الیکشن کمیشن یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار نہ دے دے۔ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اس پر بھی مشاورت کی جائے گی کہ اگر پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی چیئر مین سینیٹ کے عہدے کے لیے اپوزیشن کے مشترکہ اُمیدوار نامزد کیے جاتے ہیں تو پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ایوانِ بالا میں اپوزیشن لیڈر کے اُمیدواروں کے لیے نون لیگ اور جے یو آئی کے کن اُمیدواروں کو نامزد کیا جائے۔ پی ڈی ایم کے اندرونی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ نمبر گیم کے حساب سے اپوزیشن کو حکومت پر چھ ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ لیکن اس سیناریو میں اس بات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جارہا ہے کہ گزشتہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں اپوزیشن چونسٹھ ووٹ رکھنے کے باوجود ہار گئی تھی۔ جب اپوزیشن کے چودہ ارکان نے بغاوت کی تھی، یا اُنہیں بغاوت پر مجبور کردیا گیا تھا۔ اگر ماضی کی یہی کہانی دوہرائی جاتی ہے تو پھر اس بار محض چھ ارکان کی برتری کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

Leave a Comment